Education in Pakistan

AQWAL E ZAREEN

Aqwql e Zareen is an Urdu term used for golden sayings. It depicts wise sayings or quotes. Not only in Pakistan but also in all over the World people take guidance from this اقوال ِ زریں. There are many quotes one shall know. Once you read them you will miss them at any turn of your life. Either after getting benefit by practicing them or after losing the situation while not acting upon them. We have brought some Aqwal e Zareen for you in this article.

تم اپنے مال کے ذریعے لوگوں کو خوش نہیں کر سکتے لہذا خندہ پیشانی اور حسن خلق کے ذریعے سے انہیں خوش رکھا کرو۔.

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ بندہ اللہ تعالی کو پکارتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ناراض ہونے کی وجہ سے لیتا ہے ہے وہ پھر پکارتا ہے اللہ پھر منہ موڑ لیتا ہے وہ پھر پکارتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے کہتا ہے ہے کہ اس نے صرف مجھ سے مانگا اس لئے میں اس کو دونگا گا۔

اپنی کمائی پاک رکھو تمہاری دعا قبول ہوگی۔

بہتر ہے وہ شخص جو دیر میں خفا ہو اور جلد راضی ہوجائے اور بدتر وہ شخص ہے جو جلد غصہ میں آ جائے اور دیر سے راضی ہو ۔

وہ بھیڑیے جو ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں اس قدر فساد برپا نہیں کرتے جس قدر انسان کی دولت اور مرتبہ کی حرص اس کی دنیا میں فساد ڈالتی ہے۔
(ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

(علم کلام کی کثرت میں کچھ نہ کچھ گناہ ہوگا مگر وہ جو اپنے لبوں کو روکے رہتا ہے بڑا دانا ہے۔(حضرت سلیمان علیہ السلام

(صاحب فہم پر ایک جھڑکی اہمیت پر سو کروڑ سے زیادہ اثر کرتی ہے۔(حضرت سلیمان علیہ السلام

(دانا اپنی دانائی کو چھپاتا ہے لیکن احمق اپنی حماقت کی منادی کرتا ہے۔(حضرت سلیمان علیہ السلام

(میں مردے کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں ہوا لیکن احمق کی اصلاح سے عاجز آگیا ہوں. (حضرت عیسی علیہ السلام

(پاک چیزیں کتوں کو نہ دو اور سچے موتی اصولوں کے آگے نہ ڈالو۔ (حضرت عیسی علیہ السلام
.سلام

(دانا وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ سنے۔ (حضرت داؤد علیہ السلام

یا رب العالمین جب تم مجھے دیکھے کہ میں ذکر کرنے والوں کی مجلس سے اٹھ کر غافلوں کی مجلس میں جا رہا ہوں تو میرے پاؤں توڑ دے بلاشبہ میرے اوپر تیرا یہ انعام ہوگا۔ حضرت داؤد علیہ السلام

(ماں باپ کی خوشنودی دنیا میں موجود دولت اور عاقبت میں نجات ہے۔(حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ

(گناہ نہ کرنا واجب ہے اور گناہ سے بچنا واجب تر ہے۔(حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ

(شرم مردوں سے خوب ہے مگر عورتوں سے خوب تر ہے۔ (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی ع

 (شبہ کے ساتھ کمانا مانگنے سے بہتر ہے۔۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ

 (ایمان کے بعد بڑی نعمت نیک عورت ہے۔۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ

 (جو آدمی خود کو عالم کہے وہ جاھل ہے اور جو خود کو جنتی کہے وہ جہنمی ہے۔۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ

(سلام کرنا مجلس میں دوسروں کے لئے جگہ چھوڑنا اور مخاطب کو بہترین نام سے پکارنا محبت بڑھاتا ہے۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ

(وہ کام دنیا ہے جس سے عکس آخرت مقصود نہ ہو۔(حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ

(گناہ کسی نہ کسی صورت دل کو برقرار رکھتا ہے۔(حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ

(ترغیب دلانے کی نیت سے اعلانیہ صدقہ دینا خفیہ سے بہتر ہے۔(حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ

(لوگوں کو جس طرح چاہے آزما دیکھ سانپ بچھو سے کم نہ پائے گا۔ (حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ

جس نے لالچ کو شعار بنایا اس نے اپنے آپ کو حقیر کردیا اور جس نے اپنی بدحالی کا پردہ کھول اپنی خوشی سے ذلیل ہوا اور جس نے زبان کو اپنا فرمانروا بنایا اس نے دل کی حکومت کو کمزور کر دیا۔حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ

(مومن وہ ہے جو زادِ آخرت مہیا کرے اور کافر وہ ہے جو دنیا کے مزے اڑانے میں مشغول ہو۔(حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ

(تمہاری عمر برابر گھٹتی جا رہی ہے جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس سے کسی کی مدد کر۔(حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ

(جو تمہارے دوست بننا چاہتے ہیں ان کے دوست بنو عاقل ہو گے۔ (حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ

(جس کام کو پورا کرنے کی طاقت نہ ہو اسے اپنے ذمہ مت لو۔(حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

(جس چیز کو تم نہ سمجھ سکتے ہو اور نہ حاصل کر سکتے ہو اس کے در پہ کیوں ہوتے ہو۔(حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

(جب تم جان لو گے تم حق پر ہو تو پھر نہ جان کی پرواہ کرو نہ مال کی۔(حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

(جلدبازی حماقت ہے۔(حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

(جو کوئی اپنے مذہب کو قیاس کے ترازو میں تولتا ہے وہ ہمیشہ شکوک و شبہات میں رہتا ہے۔ (حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

توبہ زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتی ہے۔

دنیا آخرت میں نیک وقت وہ ہے جو خوش ہو تو باطل پر نہ ہو اور اگر غضبناک ہو تو اس کا غصہ اسے حق سے باہر نہ کرے۔”

“(حضرت امام زین (العابدین رضی اللہ تعالی عن

(منافقت کی دوستی سے کھلم کھلا عداوت کہیں بہتر ہے۔(حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ

(شکایت کا ترک کرنا صبر ہے۔ (حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ

(بسیار خوری اور فاقہ کشی دونوں عبادت میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔ (حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ

صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو مصائب و بلا کے اندر کیا جائے دوسرا صبر ان چیزوں سے ہے جن سے ہمیں باز رہنے کا حکم اللہ تعالی کی طرف سے ملا ان خواہشات کے خلاف صبر کرنا۔  امام حسن بصری رح

(جب چپ رہنے کی خواہش اس وقت بول اور جب تجھے گفتگو کرنے کی خواہش ہو اس وقت چپ رہ ۔ (عمر بن عبدالعزیزرح

عقائد کے بارے میں عوام سے گفتگو کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(جو شخص علم کا مزاج نہیں رکھتا تھا اس کے سامنے علمی گفتگو کرنا گویا اس کو اذیت دینا ہے ہے۔ (حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

راضی کی آنکھ ہو تو اسے کوئی عیب نظر نہیں آتا اور جب ناراض ہو جائے تو اسے صرف برائیاں ہی برائیاں نظر آتی ہیں۔

“(حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ)

دنیا میں ایسا کوئ نہیں ہے جو بلند منصب پر فائز ہو کر مست ,خواہشات کے پیچھے چل کر درماندہ اور بدکاروں سے ملکر نادم نہ ہوا ہو۔

“(حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ)

(قرآن مجیدایک ایسا دریچہ ہے جس سے ہم اگلی دنیا کو دیکھ سکتے ہیں. (امام احمد بن جنبل رحمۃ اللہ

(مومن کو گناہ یوں نظر آتے ہیں گویا ایک پہاڑ آہستہ آہستہ نیچے آرہا ہے جو اسے پیس کر رکھ دے گا۔ (امام احمد بن جنبل رحمۃ اللہ

(جب محبت کامل ہوجاتی ہے تو ادب کی شرط گر جاتی ہے۔(حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

(توبہ یہ ہے کہ تم اپنے گناہوں کو بھول جا۔ (حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

لوگوں سے میل جول اور تعارف کام رکھو میرا غالب گمان یہی ہے کہ تجھے جو تکلیف اور ایذا پہنچے گی وہ کسی واقف کار کی وجہ سے ہی ہو گی۔حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ

(جسم کے لیئے دنیا کو اختیار کرو اور آخرت کو دل کے لیے۔ (حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ

اس امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کے لیے منافق کا سہارا لیے بغیر زندگی میں آرام نہ مل سکے گا۔

(حرکت میں برکت ہوتی ہے اسی لیے ظاہری حرکتیں باطنی برکت کا سبب بنتی ہیں۔ (حضرت ابوعلی وقاق رحمۃ اللہ

(کمینہ وہ ہے جسے اللہ تعالی تک پہنچنے کا طریقہ نہ آتا ہواور نہ کسی سے دریافت کرتا ہو ۔(حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ

(جس معدہ میں کھانا بھرا ہوا ہو اس میں حکمت جاگزیں نہیں ہوسکتی۔ (حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ

(وہ خدا سے بہت قریب ہے جو خش خلق اور دوسروں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔(حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ

 (انسان کو چار چیزیں بلند کرتی ہیں، علم ‘ حلم’ کرم اور خوش کلامی۔ (حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ

(محبت کا اظہار الفاظ میں نہیں ہو سکتا اس لئے کہ بیان، بیان کرنے کی صفت ہے اور محبت محبوب کی صفت ہے۔۔( حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ

(راہ حق کا پہلا قدم توبہ ہے۔( حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ

ظالم حکمران کے خلاف اگر صالحین کا کوئی گروہ اٹھ کھڑا ہو تو ان کی امداد لازم ہوجائے گی تاکہ یہ کامیاب ہوکر ظالم اور فاسق کو مسند اقتدار سے ہٹا سکیں اور ملک پر ازسرِنو احکام شریعت کا نفاذ کر سکیں۔حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ

(تنہا محفوظ ہے ہر گناہ کی تکمیل دو سے ہوتی ہے۔ (حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ

 (اللہ تیرے قلب کے اندر کیوں داخل ہوگا جبکہ تم نے اس میں سینکڑوں ہیں مورتیاں اور بت جمع کر رکھے ہیں۔ (حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ

(ہر چیز کو اس کی ضد سے ہی توڑا جا سکتا ہے۔ (حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ

(جس نے نعمت پائی سخاوت سے پائی۔(حضرت معین الدین چشتی

(کوئی اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا مسلمان بھائی کو ذلیل و خوار کرنا۔ (حضرت معین الدین چشتی

اگر کسی نے تیرے اللہ کے لیے کانٹے بھی کھیلے ہیں تو تو انہیں راستے سے ہٹا دے اگر تو بھی اس کے جواب میں راہ میں کانٹے ہی رکھے گا تو پھر ساری دنیا کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے۔ حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ

 (وہ تھوڑا سا عمل جس پر تو مداومت کرے اس عمل سے اچھا ہے جس سے ملول ہوکر تو اسے چھوڑ دے۔ (حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ

جب اللہ تعالی کسی کی رسوائی چاہتا ہے تو اس خوب پاک لوگوں پر لعن طعن کرنے کی طرف مائل کر دیتا ہے اللہ تعالی جب کسی فرد کی عیب پوشی کرنا چاہتا ہے تو اسے معیوب لوگوں کے ایب پر بھی بات نہ کرنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ

نیکی اس کے نصیب میں آئی جس نے اپنی خواہشات کو چھوڑا اور محروم وہی ہے جس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت سے منہ موڑا۔”

(امام ابن جوزی رحمۃ اللہ)

(برا نہ ہونا بھی ایک نیکی ہے۔ (امام ابن جوزی رحمۃ اللہ

آپ ناراض دوست سے بھی راز نہ کہو خواہ دوست مخلص ہو کیا خبر کے ایک دن وہ دشمن بن جائے اسی طرح تکلیف جو تم دشمن کو پہنچا سکتے ہونہ پہنچاؤ شاید یہی دشمن ایک دن تمہارا دوست بن جائے۔ حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ

(جب گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ۔ (حضرت ابراہیم رحمہ اللہ بن ادھم

 ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اپنے عمل میں ریا کرتے تھے مگر اب ایسے لوگ ہیں جو ان اعمال پر ریا کرتے ہیں جو وہ نہیں کرتے۔”

(حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ)

(بہت سے لوگ غسل کے بعد پاک ہو جاتے ہیں لیکن بہت سے بدباطن حج و زیارت کے بعد نجس لوٹتے ہیں۔ (حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ

(انسان سراسر اپنے ماحول کی پیداوار ہے۔(ابن خلدون

(ماضی مستقبل سے اس طرح مشابہ ہے جیسے پانی کا ایک قطرہ دوسرے قطرے سے۔(ابن خلدون

جو قوم جتنی بڑی ہوگی اور اس کی حکومت کے دائرے جتنے وسیع ہوں گے اسی نسبت سے اس کی عمارات اور آثار میں عظمت و بلندی ہوگی۔”

(ابن خلدون)

پہلے فطری قابلیت اور اس کے بعد مناسب اسباب جمع ہو تو نتیجہ خاطر خوا ہوتا ہے۔”

” (عبدالقادر بیدل )

 مذہب کے لیے فکر کا وجود ناگزیر ہے۔

 جب ہم اپنی کاوشوں سے فطرت پر غلبہ حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں ہماری زندگی میں وسعت اور تنوع پیدا ہوتا ہے اور ہماری بصیرت تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ علامہ اقبال

حیات موت کی ابتدا ہے اور موت حیات کی ابتدا۔

 (عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان امتیاز ہے ۔(علامہ اقبال رحمۃ اللہ

شباب سے بچھڑا ہوا شخص اپنے شباب کی دنیا میں لوٹ جانے کا آرزو مند ہوتا ہے اور وہ اپنے شباب رفتہ کی داستان یوں کہتا ہے جیسے محبوب نظموں کو مسرور کن لہجے میں دہراتا ہے۔
(خلیل جبران)

محبت ایک زبان ہوتی ہے یہ زبان لفظوں اور ہونٹوں کی محتاج نہیں ہوتی یہ ایک غیر فانی زبان ہے اور کائنات کا ہر آدمی سے سمجھ سکتا ہے۔”

“(خلیل جبران)

(افسوس ہے اس قوم پر جو اس وقت بغاوت کرتی اور سر دھڑ کی بازی لگاتی ہے جب پھانسی کا پھندہ ان کے گلے میں کس دیا جاتا ہے۔(خلیل جبران

(ہماری روح ہمیشہ اس مقام کے ارد گرد منڈلاتی رہتی ہے جہاں ہم نے کبھی لطف سرور کے چند پرکیف لمحات گزارے ہیں۔ (خلیل جبران

ملک کے مصارف کے لئے جو کچھ لیا جائے وہ حد اعتدال سے کبھی بڑھنے نہ پائے نہ کوئی انہیں اپنی وراثت سمجھے ورنہ آخرکار تمہیں تباہی و بربادی کا سامنا ہوگا۔ نوشیرواں

(ہوا، پانی، آگ اور مٹی عناصر ہیں انہیں پلید نہیں کرنا چاہیے۔ (زرتشت

فوج کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہوسکتی، پیسے کے بغیر فوج نہیں رکھی جاسکتی ،زراعت کے بغیر پیسہ نہیں مل سکتا اور انصاف کے بغیر زراعت کامیاب نہیں ہوسکتی۔اردشر

(سکھ میں سکھ حاصل نہیں ہوسکتا دکھ میں شاید ہوجائے یہی سوچ کر میں نے تخت و تاج چھوڑدیا۔ (مہاتمہ بدھ

(دونوں فریقین کی باتیں سنو تمہارے اندر عقل آ جائے گی اگر صرف ایک ہی فریق کی سنو گے تو گمراہ ہوجاوگے(۔ اولی چنگ

(تاریخ کے نسبت شاعری حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ (افلاطون

(جھوٹ بولنے کا نقصان یہ ہے کہ اگر اس کے بعد تو سچ بھی بولے گا تو کوئی شخص تیری بات کو باور نہ کرے گا۔ (ارسطو

تو اپنا وقت دوسروں کی تحریروں کے مطالعے سے اپنی لیاقت بڑھانے میں سرف کرو اس طرح تمہیں وہ چیزیں باآسانی حاصل ہو جائیں گی جس کے حصول کے لئے دوسروں کو محنت شاقہ اٹھانی پڑی۔ سقراط

(اگر تم امیر بننا چاہتے ہو تو اپنی فرصت ضائع نہ کرو(۔ بقراط

(انسان کی خوبیاں تو اس کے تابوت کے ساتھ دفن ہو جایا کرتی ہیں مگر مگر اس کی خامیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ (شیکسپیر

مجھے وہ آدمی یاد آتا ہے جس نے اپنے ماں باپ کو قتل کر دیا جب اسے سزا سنائی جانے لگی تو اس نے اس بنا پر رحم کی درخواست کی کہ وہ یتیم ہے۔ ابراہم لنکن

زندگی کی سچی مسرت یہ ہے کہ انسان جس مقصد کوزی شان سمجھتا ہے اس میں کام آئے اور قبل اس کے کہ اسے کار رفتہ کہا جائے وہ اپنے خون کا آخری قطرہ اس مقصد کے لیے نثار کرے۔جیفرے

 (انسان پر اتنا بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کو خود اپنے آپ پر حکومت کا اختیار دے دیا جائے۔ (جیفرے

 ادب اور صحافت میں یہ فرق ہے کہ ادب کوئی پڑھتا نہیں اور صحافت پڑھنے کے قابل نہیں۔

(کتابوں کی سیر میں ہم دانوں سے ہمکلام ہوتے ہیں اور کاروباری زندگی میں ہمیں احمقوں سے کام پڑتا ہے۔ (ہربرٹ سپنسر

(اگر کوئی شخص کامیاب ہونا چاہے تو اسے خاص کام اختیار کرنا چاہئے اور اسی میں دل و جان سے لگے رہنا چاہیے۔ (فرینکلن

دو ستی تم کو ہرگز اختیار نہیں دیتی کہ اپنے دلی دوستوں کو سخت باتیں کہہ لیا کرو بلکہ جس قدر دوستی گہری ہو اس قدر خلق اور لحاظ چاہیے۔

(پڑھنے سے انسان بیدار ہوتا ہے، مکالمہ سے تمیز پیدا کرتا اور لکھنے سے ذہین ہو کر صحیح المزاج بن جاتا ہے ۔(فرانسس بیکن

(ہمارے عزیز دوستوں کے مصائب ہمارے جذبات میں تلاطم پیدا کر دیتے ہیں لیکن یہ تلاطم نا خوشگوار نہیں ہوتا۔ (والٹئیر

(جہاں روشنیوں کی کثرت ہو وہاں سائے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ (گوئٹے

ان عقلمندوں کی سزا جو حکومت میں حصہ لینے سے احتراز کرتے ہیں یہ ہوتی ہے کہ ان کو اپنے سے کم عقلوں کی حکومت میں رہنا پڑتا ہے۔ایمرسن

(ہماری نیکیاں دراصل ہماری وہ برائیاں ہیں جنہوں نے بھیس بدل لیا۔( لا روشن فوکو

(دلیل سے غالب آنا بنسبت زور سے غالب آنے کے زیادہ پسندیدہ اور مفید ہے۔ (مامون الرشید

(موت صرف ایک بار ملتی ہے اس لئے عزت کی موت تلاش کرنی چاہیے۔ (سکندر اعظم

(میرے لئے ملکوں کو فتح کرنا آسان ہے ہے لیکن میں نے یہ جان لیا ہے کہ دلوں کو فتح کرنا بہت بڑی جیت ہے۔ (سکندر اعظم

(حسن کلام کی سماعت کا فن بھی سیکھو کہ یہ کے بات کرنے والے کو مہلت دو تاکہ وہ اپنی بات مکمل کرے۔( حکما عرب

(جب ایک منجھا ہوا جاسوسوں صحیح مقام پر کام کر رہا ہوں ہو بیس ہزار فوج کے برابر ہے۔( نپولین

 حق کا پرستار کبھی ذلیل نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ اس کے خلاف ہو جائے اور باطل کا پیروکار کبھی عزت نہیں پاتا خواہ چاند اس کی پیشانی پرچاند نکل آئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا

جب کوئی شخص بہت مقبول اور اہم ہو جاتا ہے تو جتنا زیادہ آپ اس کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں بس اتنا ہی کم سمجھ پاتے ہیں۔                اوریا نہ فلاسی

سرمایہ دار طبقے نے ہر اس پیشے کی عظمت چھین لی جس کی عزت ہوتی آئی تھی اور انسان کے دل پر جس کی دھاک آج تک بیٹھی ہوئی تھی اس نے وکیل، مذہبی پیشوا ،شاعر ،اہل علم سب کو اپنا زرخرید ضرور بنا دیا ہے۔ کارل مارکس

(ہر وہ فوج جو کمتر مگر تیار ہے اکثر ایک برتر دشمن کو اچانک حملے کے ذریعے شکست دے سکتی ہے۔(ماؤزے تنگ

(جو باتیں ہم نہیں جانتے ان کے بارے میں ہمیں کبھی یہ ظاہر نہیں کرنا چاہئے کہ ہم جانتے ہیں۔(ماؤزے تنگ

(استاد بننے سے قبل شاگرد بننا چاہیے۔(ماؤزے تنگ

اگر تم فوجی اعتبار سے اچھے ہو تو قدرتی طور پر تم سیاسی اعتبار سے بھی اچھے ہو۔
(ماؤزے تنگ)

(خیالات کی جنگ میں کتابیں ہتھیار کا کام کرتی ہیں۔ (البیرونی

(جس گھر میں عورت دکھی رہتی ہے وہ گھر جلدی تباہ ہوجاتا ہے۔ (سمرتی

(دنیا پر کتابیں ہیں حکومت کرتی رہی ہیں۔ (کارلائل

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button